ڈپریشن اور اینگزائٹی کیا ہیں؟وجوہات، علامات، اقسام اور ذہنی صحت کی اہمیت
تعارف
جسمانی بیماری نظر آتی ہے، اس لیے ہم فوراً ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے ہیں۔ لیکن جب مسئلہ ذہن کا ہو تو اکثر لوگ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی خاموشی ڈپریشن (Depression) اور اینگزائٹی (Anxiety) جیسے مسائل کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق ذہنی صحت کے مسائل دنیا بھر میں معذوری کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ اس کے باوجود، ہمارے معاشرے میں اب بھی یہ سوال پوچھا جاتا ہے:
“یہ واقعی بیماری ہے یا صرف کمزوری؟”
یہ آرٹیکل اسی سوچ کو بدلنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
ذہنی صحت کیا ہے؟
ذہنی صحت صرف پاگل نہ ہونے کا نام نہیں۔
اچھی ذہنی صحت کا مطلب یہ ہے کہ انسان:
- اپنے جذبات کو سمجھ سکے
- روزمرہ دباؤ کا سامنا کر سکے
- فیصلے درست انداز میں کر سکے
- دوسروں کے ساتھ صحت مند تعلق قائم رکھ سکے
جب یہ توازن بگڑ جائے تو ڈپریشن اور اینگزائٹی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
ڈپریشن کیا ہے؟
ڈپریشن محض اداسی نہیں۔
یہ ایک کلینیکل ذہنی بیماری ہے جس میں انسان مسلسل:
- مایوسی
- بے دلی
- تھکن
- اور زندگی سے دلچسپی کی کمی
محسوس کرتا ہے۔
امریکن سائیکاٹرک ایسوسی ایشن (APA) کے مطابق، ڈپریشن دماغی کیمیکلز، سوچ کے انداز اور زندگی کے تجربات کے باہمی اثر سے پیدا ہوتا ہے۔
سادہ لفظوں میں:
یہ “حوصلہ کرو” کہنے سے ٹھیک نہیں ہوتا۔
اینگزائٹی کیا ہے؟
خوف انسان کو خطرے سے بچاتا ہے، لیکن جب خوف بلاوجہ اور مسلسل ہو جائے تو وہ اینگزائٹی بن جاتا ہے۔
اینگزائٹی میں انسان:
- ہر وقت کسی ان دیکھے خطرے کا انتظار کرتا ہے
- چھوٹی بات کو بڑا مسئلہ سمجھ لیتا ہے
- جسمانی علامات بھی محسوس کرتا ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ دماغ اینگزائٹی میں “الارم موڈ” پر چلا جاتا ہے، چاہے خطرہ موجود ہو یا نہیں۔
ڈپریشن اور اینگزائٹی کیوں ہوتی ہے؟
یہ سوال سب سے زیادہ پوچھا جاتا ہے، اور جواب ہمیشہ ایک نہیں ہوتا۔
1. ذہنی و نفسیاتی وجوہات
- مسلسل ذہنی دباؤ
- کسی قریبی شخص کا انتقال
- ناکامی یا شدید مایوسی
- بچپن کے منفی تجربات
2. جسمانی اور حیاتیاتی عوامل
- دماغی کیمیکلز (Serotonin, Dopamine) میں عدم توازن
- نیند کی کمی
- ہارمونز کی تبدیلی
NHS کے مطابق، ذہنی اور جسمانی صحت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔
3. سماجی وجوہات
- بے روزگاری
- مالی مسائل
- خاندانی تنازعات
- سماجی تنہائی
4. طرزِ زندگی سے جڑی وجوہات
- حد سے زیادہ سوشل میڈیا
- جسمانی سرگرمی کی کمی
- غیر متوازن روٹین
یہاں ایک منطقی بات سمجھنا ضروری ہے:
اگر موبائل دن میں 10 گھنٹے استعمال ہو اور نیند 5 گھنٹے، تو دماغ شکوہ تو کرے گا۔
ڈپریشن کی علامات
ڈپریشن کی علامات ہر شخص میں ایک جیسی نہیں ہوتیں، مگر عام نشانیاں یہ ہیں:
- مستقل اداسی یا خالی پن
- پسندیدہ کاموں میں دلچسپی ختم ہو جانا
- تھکن، چاہے کام کیا ہو یا نہیں
- نیند زیادہ آنا یا بالکل نہ آنا
- بھوک میں کمی یا زیادتی
- خود کو بے کار یا بوجھ سمجھنا
- توجہ مرکوز کرنے میں دشواری
اگر یہ علامات دو ہفتے یا اس سے زیادہ رہیں تو انہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
اینگزائٹی کی علامات
اینگزائٹی اکثر جسم کے ذریعے بولتی ہے:
- دل کی دھڑکن تیز ہونا
- سانس لینے میں مشکل
- پسینہ آنا
- ہاتھ کانپنا
- بے چینی
- بار بار منفی خیالات
کبھی کبھار پینک اٹیک بھی ہو سکتا ہے، جس میں انسان کو لگتا ہے کہ کچھ خطرناک ہونے والا ہے، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔
ڈپریشن اور اینگزائٹی کی اقسام
اینگزائٹی کی اقسام
- جنرلائزڈ اینگزائٹی ڈس آرڈر (GAD)
- پینک ڈس آرڈر
- سوشل اینگزائٹی
- مخصوص فوبیاز
ڈپریشن کی اقسام
- میجر ڈپریشن
- کرانک ڈپریشن
- سیزنل ایفیکٹو ڈس آرڈر
- پوسٹ پارٹم ڈپریشن
ہر قسم کی علامات اور شدت مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے خود تشخیص مناسب نہیں۔
کن علامات پر ڈاکٹر سے رجوع ضروری ہے؟
ماہرینِ ذہنی صحت کے مطابق، درج ذیل صورتوں میں مدد لینا ضروری ہے:
- علامات مسلسل بڑھ رہی ہوں
- روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہو
- نیند، کام یا تعلقات بگڑ رہے ہوں
- خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات آئیں
- شدید پینک اٹیک ہوں
یہاں ایک حقیقت واضح رہنی چاہیے:
ڈاکٹر کے پاس جانا کمزوری نہیں، سمجھداری ہے۔
ذہنی صحت چیک کروانا کیوں ضروری ہے؟
جیسے بلڈ پریشر یا شوگر چیک ہوتی ہے، ویسے ہی ذہنی صحت کا خیال بھی ضروری ہے۔
WHO کے مطابق بروقت تشخیص:
- بیماری کو بگڑنے سے روکتی ہے
- علاج کو مؤثر بناتی ہے
- زندگی کے معیار کو بہتر کرتی ہے
ذہنی صحت کو نظرانداز کرنا ایسے ہے جیسے گاڑی کا انجن خراب ہو اور ہم صرف رنگ پالش پر توجہ دیں۔
ابتدائی سطح پر کیا احتیاطی اقدامات مددگار ہو سکتے ہیں؟
یہ علاج نہیں، مگر عمومی رہنمائی ہے:
- نیند کا باقاعدہ شیڈول
- ہلکی جسمانی ورزش
- سوشل میڈیا کا محدود استعمال
- کسی قابلِ اعتماد شخص سے بات
- خود کو اکیلا نہ سمجھنا
APA کے مطابق، سپورٹ سسٹم ذہنی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ڈپریشن اور اینگزائٹی سے جڑی عام غلط فہمیاں
- “یہ سب وہم ہے”
- “مضبوط لوگ ڈپریشن میں نہیں جاتے”
- “صرف عبادت کافی ہے”
حقیقت یہ ہے کہ:
- یہ حقیقی طبی مسائل ہیں
- مضبوط لوگ بھی بیمار ہو سکتے ہیں
- روحانی، ذہنی اور طبی مدد ایک دوسرے کی مخالف نہیں
نتیجہ
ڈپریشن اور اینگزائٹی خاموش دشمن ہیں، مگر ناقابلِ شکست نہیں۔
آگاہی، قبولیت اور بروقت مدد انسان کو دوبارہ متوازن زندگی کی طرف لا سکتی ہے۔
ذہنی صحت پر بات کرنا شرمندگی نہیں، بلکہ شعور کی علامت ہے۔
اہم نوٹ (Disclaimer)
یہ آرٹیکل صرف معلومات اور آگاہی کے لیے ہے۔ کسی بھی ذہنی یا جسمانی مسئلے کی تشخیص اور علاج کے لیے مستند ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے رجوع کریں۔





